الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ بِوَصِيَّةٍ مِنْهُ وَمَنْ أَذِنَ فِي انْتِهَابِ أُضْحِيَةٍ -
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4715
عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ
۔ حنش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي الحسنائ، وشريكُ النخعي سييء الحفظ، أخرجه أبوداود: 2790، والترمذي: 1495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1286»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن کسی بھی نیک کام کی وصیت کی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي الحسنائ
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4715 in Urdu