الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4755
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي وَمَنِ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے نام پر نام رکھا، وہ میری کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4755]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14409»
وضاحت: فوائد: … فوائد: … بہتر یہ ہے کہ سابقہ احادیث کے عام حکم کا لحاظ کر کے ان احادیث کے جواز پر عمل نہ کیا جائے، ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی اجازت دی ہو، لیکن پھر حدیث نمبر (۴۷۵۱) کے واقعہ کے بعد عموم کے ساتھ ابو القاسم کنیت سے منع کر دیا ہو، حدیث نمبر (۴۷۵۸) سے بھی اس قسم کا اشارہ ملتا ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات کے بعد اس کنیت کی اجازت دے رہے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14409
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4755 in Urdu