الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُنْيَةِ وَاللَّقَبِ وَمَنْ كَنَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَفِي رِوَايَةٍ يُخَالِطُنَا وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ وَفِي لَفْظٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنستے تھے، اس کا ایک منّا سا چڑیا کا بچہ تھا، وہ اس کے ساتھ کھیلتا تھا، ایک دن اس کا وہ بچہ مر گیا، جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور میرے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، غمزدہ نظر آ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا وہ چڑیا کا بچہ مر گیا ہے، جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5664، 5735، ومسلم: 4003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14117»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو کنیت کے ساتھ پکارا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کا دل بہلانے کے لیے نُغَر کو نُغَیْر کہہ رہے ہیں، یہ حسن اخلاق کا خوبصورت انداز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5664
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4771 in Urdu