الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. فضل الجهاد والرباط والمجاهدين ¤ فضل الجهاد والترغيب فيه
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت¤جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 4786
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَا تُطِيقُونَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ قَالُوا أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِيقُهُ قَالَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد کی سبیل اللہ کے برابر ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2787، ومسلم: 1878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9477»
وضاحت: فوائد: … مسلسل یعنی مجاہد جب سے جہاد کو نکلا، اس وقت سے اس کی واپسی تک کوئی شخص لگاتار روزے اور نماز کی حالت میں رہے، ایک لمحہ بھی سستی نہ کرے، ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے، گویا جہاد کے برابر کوئی اور عمل نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2787
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4786 in Urdu