الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. وُجُوبِ الْجِهَادِ وَالْحَثَّ عَلَيْهِ
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
حدیث نمبر: 4797
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّجُلُ يَحْمِلُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَهُوَ مِمَّنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ قَالَ لَا لَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ} [النساء: 84] إِنَّمَا ذَاكَ فِي النَّفَقَةِ
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک آدمی مشرکوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، کیا یہ وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں جہاد کریں، آپ کو مکلّف نہیں ٹھہرایا جائے گا، مگر اپنے نفس کا۔ یہ تو مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4797]
تخریج الحدیث: «سبب نزول الآية صحيح من حديث حذيفة، أخرجه الحاكم: 2/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18669»
وضاحت: فوائد: … اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے مراد جہاد میں اور دوسرے امورِ خیر میں خرچ نہ کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} … اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۂ: ۱۹۵)
الحكم على الحديث:
سبب نزول الآية صحيح من حديث حذيفة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4797 in Urdu