الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. فضل المجاهدين فى سبيل الله
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 4829
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ
۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوں کو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4829]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19767»
وضاحت: فوائد: … اَللّٰہُ اَکْبَرُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث ِ مبارکہ پر کیسا ایمان تھا کہ جان کی بھی پروا نہیں کی۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1902
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4829 in Urdu