الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. إخلاص النية فى الجهاد وما جاء فى أخذ الأجرة عليه
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 4842
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں، (۱) جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے، امیر کی اطاعت کرتا ہے، عمدہ مال خرچ کرتا ہے، اپنے ساتھی پر آسانی کرتا ہے اور فساد سے گریز کرتا ہے، ایسے آدمی کا سونا اور جاگنا، غرضیکہ ہر چیز باعث ِ اجر ہے۔ (۲) جس نے فخر اور ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، وہ تو برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، بقية بن الوليد ليس بالقوي، وھو مدلس تدليس التسوية، أخرجه أبوداود: 2515، والنسائي: 6/ 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22392»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس سفر میں جتنی برائیاں کی ہیں، وہ اس کے اس سفر کی نیکیوں سے زائد ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4842 in Urdu