الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. إخلاص النية فى الجهاد وما جاء فى أخذ الأجرة عليه
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 4844
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتَ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ شُجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی بہادری کا اظہار کرنے کے لیے، ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاکاری کرنے کے لیے قتال کرتا ہے، ان میں راہِ خدا میں کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس مقصد کے لیے قتال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7458، ومسلم: 1904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19772»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے کلمے سے مراد اس کا پیغام اور دین ہے، اگرچہ ہر نیک عمل میں اخلاص نیت کی حیثیت کلیدی ہے، لیکن یہ حدیث ِ مبارکہ مجاہد کے قصد کی سمت کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7458
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4844 in Urdu