الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. أَبْوَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَالشُّهَدَاءِ¤ فَضْلُ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب¤اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
حدیث نمبر: 4869
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4869]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2838، 2839، 4423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12905»
وضاحت: فوائد: … بعض صحابۂ کرام معذور ہونے کی وجہ سے جہاد نہ کرسکتے، لیکن ان کی شدید تمنا اور خواہش یہ ہوتی کہ کاش وہ معذور نہ ہوتے تاکہ جہاد میں شرکت کرتے، اس خواہش کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کا ثواب عطا کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2838
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4869 in Urdu