الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ الدَّعْوَةِ لِلإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ وَوَصِيَّةِ الْإِمَامِ لَا مِيْرِ الْجَيْشِ
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4937
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ حَاصَرَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ لَا حَتَّى أَدْعُوَهُمْ كَمَا كَانَ يَدْعُوهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهُمْ فَكَلَّمَهُمْ قَالَ أَنَا رَجُلٌ فَارِسِيٌّ وَأَنَا مِنْكُمْ وَالْعَرَبُ يُطِيعُونَنِي فَاخْتَارُوا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُسْلِمُوا وَإِمَّا أَنْ تُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ غَيْرُ مَحْمُودِينَ وَإِمَّا أَنْ نُنَابِذَكُمْ فَنُقَاتِلَكُمْ قَالُوا لَا نُسْلِمُ وَلَا نُعْطِي الْجِزْيَةَ وَلَكِنَّا نُنَابِذُكُمْ فَرَجَعَ سَلْمَانُ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالُوا أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ لَا قَالَ فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمْ يَقْبَلُوا فَقَاتَلَهُمْ فَفَتَحَهَا
۔ ابو بختری کہتے ہیں: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فارس کے محلات میں ایک محل کا محاصرہ کر لیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: اے ابو عبد اللہ! کیا تو ان کی طرف کھڑا ہو کر (ان پر حملہ نہیں) کرتا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دے لوں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوت دیتے تھے، پس وہ ان کے پاس آئے اور ان سے یوں بات کی: میں فارسی آدمی ہوں، میں تم میں سے ہی ہوں، یہ عرب میری اطاعت کرنے والے ہیں، تین امور میں سے ایک کو پسند کر لو، یا اسلام قبول کر لو، یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دو، اس حال میں کہ تم ذلیل ہو گے اور تمہیں سراہا نہیں جائے گا، یا پھر ہم تم سے اعلانِ جنگ کر کے قتال شروع کر تے ہیں، انھو ں نے کہا: نہ ہم اسلام قبول کرتے ہیں اور نہ جزیہ دیتے ہیں، بلکہ ہم تم سے اعلانِ جنگ کرتے ہیں، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ آئے، انھوں نے کہا: کیا اب آپ ان کی طرف کھڑے نہیں ہوتے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پس انھوں نے ان کو تین دن دعوت دی، لیکن انھوں نے قبول نہ کی، پھر انھوں نے ان سے لڑائی شروع کر دی اور اس محل کو فتح کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين ابي البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب كان قد اختلط, أخرجه الترمذي: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24140»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه بين ابي البختري وبين سلمان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4937 in Urdu