الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُيَلَاءِ فِي الْحَرْبِ وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالِاغْتِرَارِ بِكَثْرَةِ الْجُنْدِ
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4976
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا وَفِي لَفْظٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے ملنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کیا ہو گا (اس لیے تمنا نہ کیا کرو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري معلقا: 3026، ومسلم: 1741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10784»
وضاحت: فوائد: … یقینا جہاد باعث ِ اجر و ثواب ہے، لیکن مشکل اور آزمائش والا عمل ہے، لشکر ِ اسلام کو فتح بھی ہو سکتی ہے اور شکست بھی، پھر شکست کی کئی صورتیں ہیں، اس لیے دشمن سے لڑنے کی تمنا نہیں ہونی چاہیے، ہاں جب جنگ چھڑ جائے تو پھر ہر قسم کے خطرے کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں اترا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري معلقا: 3026
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4976 in Urdu