الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فى وجوب معرفة الله تعالى وتوحيده والاعتراف بوجوده
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ، قَالَ: فَقَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ!» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» بَدَلَ قَوْلِهِ «أَنْ يُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ» ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ يَعْمَلُوا» ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب سی حدیث بیان کرو، انہوں نے کہا: جی ہاں، وہ بات یہ ہے کہ میں گدھے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟“ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث ذکر کی، البتہ اس میں جنت میں داخل کرنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے: آخر میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ حدیث بیان کر کے خوشخبری نہ سنا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہنے دو، تاکہ وہ مزید عمل کرتے رہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري ومسلم، وانظر الحديث المتقدم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22343، 22378»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5 in Urdu