الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب النهي عَنِ الْمُثْلَةِ وَالتَّحْرِيقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ وَهَدْمِ الْعَمَرَانِ إِلَّا لِحَاجَةٍ وَمَصْلِحَةِ
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
حدیث نمبر: 5001
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھوٹے بچے، یا بوڑھے آدمی کو قتل کیا، یا کھجوروں کے درخت جلائے، یا پھل دار درخت کاٹے اور چمڑے کی خاطر بکری کو ذبح کر دیا تو وہ اس جہاد سے برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وشيخه لم يسمِّه، فھو مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22726»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ضرورت و مصلحت کے پیش نظر درختوں اور دیگر سامان کو جلا کر دشمن کے علاقے میں تخریب کاری کی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5001 in Urdu