🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابُ فَرْضِ حُمُسِ الْغَنِيمَةِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِهِ
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5032
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) جَاءَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَيْنٍ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَى هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَيْئًا وَاحِدًا قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ
۔ (دوسری سند) سیدنا جبیر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرنے کے لیے آئے، اس بات کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کا خمس بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب اور بنو عبد مناف میں مال تقسیم کیا ہے، لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا، جبکہ آپ سے ہماری اور ان کی رشتہ داری ایک جیسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہاشم اور مطلب کو ایک چیز خیال کرتا ہوں۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16904»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ بنو نوفل سے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنو عبدشمس سے تھے، جبکہ عبد شمس، نوفل، ہاشم اور مطلب سب بنو عبد مناف ہونے کی وجہ سے برابر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو بنو ہاشم سے تھے، لیکن بنو مطلب کی جو رشتہ داری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھی، وہی قرابت بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو حاصل تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عباس کو اس وجہ سے فضیلت وبرتری دی اور ان کو اور بنو ہاشم کو ایک چیز قرار دیا کہ بنو عباس نے بنو ہاشم کی تائید و نصرت کی ہے، دورِ جاہلیت میں بھی اور اس کے بعد بھی، جبکہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل، بنو ہاشم سے الگ رہے ہیں، بلکہ ان سے لڑائیاں بھی لڑی ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16904


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5032 in Urdu