الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ فَرْضِ حُمُسِ الْغَنِيمَةِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِهِ
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 5035
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
۔ یزید بن ہرمز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نجدہ حروری نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت سے خروج کیا تو اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے قرابتداروں کے حصے کے بارے میں سوال کیا کہ ان کے علم کے مطابق وہ کس کو دیا جائے گا، انھوں نے کہا: وہ ہمارے لیے ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حصے کو ہم لوگوں میں تقسیم کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال میں کچھ حصہ ہمیں دیا اور ہم نے اس کو اپنے حق سے کم خیال کیا تو ہم نے ان کو واپس کر دیا اور قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو حصہ ان پر پیش کیا تھا، اس کی تفصیل یہ تھی کہ وہ نکاح کرنے والے کا تعاون کریں گے، ان کے قرض داروں کا قرضہ ادا کریں گے اور ان کے فقیر لوگوں کو دیں گے، انھوں نے اس سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2941»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے شروع والے حصے کی وضاحت یہ ہے: خوارج کی ایک جماعت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حامی بن کر ان کا دفاع کرتی رہی، جب ان کی خلافت مضبوط ہوئی تو اس وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا کہ ان کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے کا علم نہیں تھا، جب انھوں نے ان
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1812
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5035 in Urdu