الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ تَقْسِيمِ أَرْبَعَةِ أَحْمَاسِ الْغَيْمَةِ وَمَا يُعْطَى الفارس والرجل، وَمَن يُرْضَحُ لَهُ مِنْهَا كَالْمَرْأَةُ وَالْمَمْلُوكِ
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5039
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ رکھا۔ ابو معاویہ راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے کل تین حصے رکھے، ایک آدمی کا اور دو اس کے گھوڑے کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5039]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2863، 4228، ومسلم: 1762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4448»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو اس کے خاص حصے کے علاوہ گھوڑے کی وجہ سے دو مزید حصے دیئے۔ ان دو حصوں کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑے کا خرچ زیادہ ہے اور گھوڑ سوار پیدل سے کئی گنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2863
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5039 in Urdu