الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب تحريم الغلول والتشديد فيه وتحريق رحل الغال وما جاء فى النهبي
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
حدیث نمبر: 5073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمْ يَبْنِ وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا أَحَدٌ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ قَالَ فَلَصِقَ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ فَأَخْرَجُوْا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے، جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بنا ہو اور خلوت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، جبکہ اس نے ابھی تک خلوت اختیار نہ کی ہو، ایسا آدمی بھی میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو، لیکن ابھی تک چھت ڈالنا باقی ہو اور ایسا شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا گابھن جانور خریدے ہوں اور وہ ان کے بچے جنم دینے کا انتظار کر رہا ہو، پس وہ نبی جہاد کے لیے چلا اور ایک بستی کے قریب پہنچ گیا، یہ نمازِ عصر کا وقت تھا یا اس کے قریب کا، پس اس نے سورج سے کہا: تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اس سورج کو کچھ دیر کے لیے روک لے، پس اس کو اس کے لیے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی اور انھوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، اس کو کھانے کے لیے آگ تو آئی، لیکن اس نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا، یہ منظر دیکھ کر اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، سو ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے، پس انھوں نے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، لہذا تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے، پس سارے قبیلے نے بیعت کی اور دو تین آدمیوں کے ہاتھ چمٹ گئے، اس نے کہا: تم افراد میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے، پس انھوں نے سونا نکالا، جو گائے کے سر کی مانند تھا اور اس کو مال میں رکھ دیا، جو کہ سطح زمین پر پڑا تھا، پھر آگ آئی اور اس کو کھا گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غنیمتیں ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں، پس اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھ کر ان کو ہمارے لیے حلال قرار دیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3124، 5157، ومسلم: 1747، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8221»
وضاحت: فوائد: … خیانت کی قباحت و شناعت واضح ہو رہی ہے، مزید قیمتی معلومات درج ذیل ہیں:
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3124
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5073 in Urdu