الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَاب تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَالتَّشْدِيدِ فِيْهِ وَتَحْرِيْقِ رحْلِ الْغَالِ وَمَا جَاءَ فِي النَّهْبَي
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
حدیث نمبر: 5084
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَسَرَنِي فَارِسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ مَعَهُمْ فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَطَبَخُوهَا قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النُّهْبَى أَوِ النُّهْبَةَ لَا تَصْلُحُ فَاكْفِئُوا الْقُدُورَ
۔ سماک بن حرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو لیث کے ایک آدمی نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: صحابۂ کرام کے گھوڑ سواروں نے مجھے قید کر لیا، میں ان کے ساتھ تھا، انھوں نے بکریاں دیکھ کر لوٹ مار کی اور ان کو پکانا شروع کر دیا، لیکن (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچے تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ مار درست نہیں ہے، لہذا ہنڈیوں کو انڈیل دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23504»
وضاحت: فوائد: … یہ بکریاں مجاہدین کا حق تھیں، لیکن لوٹ مار کی صورت میں تقسیم حق کے مطابق نہیں ہوتی، طاقت و قوت کے مطابق ہوتی ہے، جو جتنا قوی ہو گا، وہ اس قدر زیادہ لوٹ مار کرے گا، اس طرح بعض کے حصوں میں کمی آ جائے گی اور بعض کے حصوں میں زیادتی، جبکہ شرکت کرنے والے مجاہدین کے حصے مقرر ہیں کہ سوار کو اتنا ملے گا اور پیادہ کواتنا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دے دیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5084 in Urdu