الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ فِي فِدَاءِ أَسْرَى بَدْرٍ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسَبَبِهِ
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
حدیث نمبر: 5099
- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ( (لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ التَّتْنَى أَطْلَقْتُهُمْ) ) يَعْنِي أَسَارَى بَدْرٍ -
۔ سیدنا جریر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور (بدر کے) ان بد بودار قیدیوں کے بارے میں مجھ سے بات کرتا تو میں ان کو (بغیر فدیے کے) آزاد کر دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البخاري: 3139۔ ابوداود: 2689۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16853»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مطعم بن عدی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پناہ دی تھی کہ اس نے اپنے چار بیٹوں کو حکم دیا، وہ اسلحہ سے لیس ہو کر کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہو گئے، یہ منظر دیکھ کر قریشیوں نے کہا: اے مطعم! تو ایسا آدمی ہے کہ تیری پناہ کو نہیں توڑا جا سکتا۔ یہ اس شخص کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احسان تھا، اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی سفارش قبول کرنے کا ارادہ کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5099 in Urdu