🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5104
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالسَّبْيِ فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپس میں قرابت والے) قیدی ایک گھر والوں کو دے دیتے، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان کے درمیان جدائی ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5104]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3690»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ اَبِیْعَ غُلَامَیْنِ أَخَوَیْنِ فَبِعْتُہُمَا فَفَرَّقْتُ بَیْنَہُمَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَدْرِکْہُمَا فَأَرْجِعْہُمَا وَلَا تَبِعْہُمَا اِلَّا جَمِیْعًا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں

الحكم على الحديث:
حسن لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5104 in Urdu