🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. بَابُ أَنَّ الْأَسِيرَ إِذَا أَسْلَمَ لَمْ يَزَلْ مِلْكَ لْمُسْلِمِينَ عَنْهُ وَجَوَازِ اسْتِرْقَاقِ الْعَرْبِ
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5114
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأُصِيبَتْ مَعَهُ الْعَضْبَاءُ فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي بِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ إِعْظَامًا لِذَلِكَ فَقَالَ أَخَذْتُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي قَالَ هَذِهِ حَاجَتُكَ قَالَ فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو ثقیف، بنو عُقیل کے حلیف تھے، بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابہ کو قید کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل کا ایک آدمی گرفتار کر لیا، اس کے ساتھ عَضْبَاء نامی اونٹنی بھی پکڑی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس قیدی کے پاس آئے، جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا تو اس نے کہا: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: آپ نے مجھے کیوں پکڑا ہے، آپ نے اس اونٹنی کو کیوں پکڑ لیا، جو حاجیوں کے قافلے سے آگے گزر جاتی تھی؟ وہ اس گرفتاری کو بڑا خیال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے تیر حلیف بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پھر گئے، لیکن اس نے پھر کہا: اے محمد! اے محمد! چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم دل اور نرم تھے، اس لیے اس کے پاس آ گئے اور اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک اور آزاد تھا تو تو مکمل طور پر کامیاب ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، اس نے پھر آواز دی: اے محمد! اے محمد! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ اس نے کہا: جی میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلائیے اور میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری ضرورت ابھی پوری کر دی جاتی ہے۔ اس قیدی کے فدیے میں دو آدمی لیے گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5114]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20136»
وضاحت: فوائد: … اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک …۔ یعنی اگر وہ قیدی بننے سے پہلے مسلمان ہو جاتا تو اس کو آزاد مسلمان سمجھا جاتا اور وہ کامل فلاح پا جاتا، قیدی ہو جانے کے بعدمسلمان ہونا، ظاہر ہے کہ یہ بھی سعادت ہی ہے، لیکن غلامی برقرار رہے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1641


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5114 in Urdu