الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب أن الأسير إذا أسلم لم يزل ملك لمسلمين عنه وجواز استرقاق العرب
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 5116
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (زخمی ہونے کے بعد) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ان کے پاس سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب لوگ جان لو کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی، اپنے بعد کسی ایک کو خلیفہ مقرر نہیں کیا اور عرب کے جو قیدی میری ملکیت میں میری وفات پا لیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے آزاد ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 129»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5116 in Urdu