🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ فِيمَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ مَعَ الكُفَّارِ وَمُدَّةِ الْمُهَادَنَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5150
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَكْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی، ان میں سہیل بن عمرو بھی موجود تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لکھو۔ سہیل نے کہا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، ہم نہیں جانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کیا ہوتی ہے؟ وہ الفاظ لکھو، جو ہم جانتے ہیں، یعنی بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: لکھومحمد رسول اللہ کی جانب سے۔ لیکن (سہیل نے اس جملے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے) کہا: اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نے آپ کی پیروی اختیار کر لینی تھی، آپ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی ہمارے پاس آ جائے، ہم اس کو واپس نہیں لوٹائیں گے، لیکن ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا، تم اس کو ہماری طرف لوٹا دو گے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ یہ شق لکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بیشک شان یہ ہے کہ ہم میں سے جو آدمی ان کی طرف چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو دور کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5150]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13863»
وضاحت: فوائد: … شاید ہمارا سرسری فہم طبعی طور پر ان شرائط کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ساری شروط اس بنا پر قبول کر لی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع کر دیا تھا کہ ان میں اسلام اور اہل اسلام کے لیے خیر و بھلائی اور منفعت و مصلحت ہے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان شروط کے بارے میں شد ومد کے ساتھ استفسار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1784


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5150 in Urdu