الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْكُفَّارِ وَقَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ: «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدِ وَهُمْ صَاغِرُونَ»
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5157
عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلَبَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
۔ بنو تغلب قبیلے کے ایک فرد سیدنا ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر ٹیکس نہیں ہے، البتہ یہودیوں اور عیسائیوں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5157]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه أبوداود: 3048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15992»
وضاحت: فوائد: … عُشُوْر کی واحد عَشْر ہے، جس کا معنی دسواں حصہ ہے، اس سے مراد سامان تجارت وغیرہ کا دسواں ہے، ہم نے اس کا مفہومی معنی ٹیکس لکھا ہے، غیر مسلموں سے وہ ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے، جس کا معاہدے میں تعین کیا گیا ہو، وگرنہ نہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5157 in Urdu