🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب فى جواز ذلك فى البنيان
عمارتوں میں اس چیز کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَاءِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ فَعَلُوهَا؟ اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ) )
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرمگاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا، لیکن عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیٹرین کو قبلہ رخ کر کے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي نكارة فيه، خالد بن ابي الصلت ضعيف، وفي ھذا الحديث اضطراب۔ أخرجه ابن ماجه: 324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26015»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ بھی کیا ہے اور پیٹھ بھی، جبکہ پچھلے باب کی احادیث میں ایسا کرنے سے منع کیا ہے، اس ظاہری تناقض کودور کرنے کے لیے کافی ساری آراء جمع ہو گئی ہیں، راجح مسلک یہ ہے کہ اس حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا مستحب ہے، اگر کوئی مجبوری بن جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی رخصت پر عمل کر لینا چاہیے۔ دو احادیث میں عمارتوں کی قید نہیں ہے، اس لیے تمام روایات کو عمارتوں پر محمول کر لینا درست نہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف علي نكارة فيه


Al-Fath al-Rabbani Hadith 517 in Urdu