الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. أبواب ما جاء فى صفات الخيل وفضل اقتنائها للجهاد وما يستحب ويكره منها وغير ذلك
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: Q5178]
حدیث نمبر: 5178
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْلِ فَقَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ الَّذِي يَتَّخِذُهَا وَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنِ اسْتَنَّتْ مِنْهُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ خُطْوَةٍ خَطَتْهَا أَجْرٌ وَلَوْ عَرَضَ لَهُ نَهْرٌ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5178]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8965»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 987
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5178 in Urdu