الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مَا جَاءَ فِي التَّدْبِيرِ وَجَوَازِ بَيعِ الْمُدَبَّرِ لحاجة
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 5275
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو مذکورہ نامی ایک انصاری صحابی نے یعقوب نامی اپنے غلام کو اپنے موت کے بعد آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام کو بلایا اور فرمایا: کون اس کو خریدے گا؟ کون اس کو خریدے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سسر سیدنا نُعَیم بن عبد اللہ نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض اس کو خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5275]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6716، 6947، ومسلم: 997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14324»
وضاحت: فوائد: … مُدَبَّر غلام وہ ہوتا ہے، جس کو اس کا مالک یوں کہہ دے: تو میری موت کے بعد آزاد ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6716
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5275 in Urdu