🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب ما جاء فى أم الولد
ام ولد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5288
عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي سَلَامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ قَالَتْ كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ فَقَالَتْ لِيَ امْرَأَتُهُ الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالُوا أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبِيعُوهَا وَأَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ جَاءَنِي فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ فَفَعَلُوا فَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَوْمٌ أُمُّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ هِيَ حُرَّةٌ قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفِيهَا كَانَ الِاخْتِلَافُ
۔ سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدنا حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی، مجھ سے ان کا بچہ بھی پیدا ہوا تھا، (لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو) ان کی بیوی نے مجھے کہا: اب تجھے اس کے قرضے میں بیچا جائے گا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حباب بن عمرو کے ترکہ کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ان کا بھائی سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: تم نے اس کو بیچنا نہیں ہے، بلکہ اس کو آزاد کر دینا ہے، جب تم سنو کہ میرے پاس غلام آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تم کو اس کا عوض دوں گا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ ام الولد اپنے مالک کی وفات کے بعد لونڈی ہی رہے گی، اگر اس کا حکم لونڈی کا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے عوض ان لوگوں کو غلام نہ دیتے، جبکہ بعض نے کہا کہ ایسی خاتون آزاد ہو جائے گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد کیا تھا۔ سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے بارے میں صحابہ کا اختلاف تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، ووالدة الخطاب في عداد المجھولين، أخرجه أبوداود: 3953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 37029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27569»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5288 in Urdu