الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
حدیث نمبر: 5341
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ قُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أُعْطِيهِ قَالَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور صلہ رحمی کی طرف۔ میں نے کہا: میرا ایک چچا زاد میرے پاس آتا ہے اور میں قسم اٹھا لیتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں اس کو کچھ دے دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور بہتر چیز کو اختیار کر، توخود غور کر کہ اگر تیرے دو غلام ہوں، ان میں اے ایک غلام تیری اطاعت کرتا ہو، تجھ سے خیانت نہ کرتا ہو اور نہ تجھ سے جھوٹ بولتا ہو، جبکہ دوسرا غلام خیانت کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو۔ میںنے کہا: نہیں، بلکہ وہی جو خیانت نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا اور سچی بات کرتا ہے، وہ مجھے زیادہ پسند ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اپنے ربّ کے ہاں ایسے ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/11، وابن ماجه: 2109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17360»
وضاحت: فوائد: … نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنامالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ میرا یک چچازاد ہے، میں اس کے پاس جا کر اس سے سوال کرتا ہوں، لیکن وہ نہ مجھے کچھ دیتا ہے اور نہ مجھ سے صلہ رحمی کرتا ہے، پھر جب وہ محتاج ہو کر میرے پاس آکر مجھ سے سوال کرتا ہے، جبکہ میں نے قسم اٹھا لی تھی کہ میں نہ اس کو کچھ دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا …۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5341 in Urdu