الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب من نذر ندرا مباحا أو غير مشروع أو لا يطيقه وكفاره ذلك
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
حدیث نمبر: 5378
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أَعْرَابِيٍّ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ نَذَرْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا أَزَالَ فِي الشَّمْسِ حَتَّى تَفْرُغَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هَذَا نَذْرًا إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو کو دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ آپ کے اس خطاب سے فارغ ہونے تک دھوپ میں کھڑا رہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی نذر نہیں ہے، نذر تو وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5378]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6975»
وضاحت: فوائد: … جو کام شارع کے ہاں محبوب ہی نہ ہو، اس کی نذر ماننے کا کیا تک ہے، نذر کے ذریعے ایسی چیز کو لازم کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہو، مثلا نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، حج و عمرہ کرنا، اعتکاف کرنا، وغیرہ۔
الحكم على الحديث: حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5378 in Urdu