🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الذِّكْرِ الْخَفِيُّ
ذکر ِ خفی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5419
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے اور بلند ہوتے اور کسی وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے نفسوں پر نرمی کرو، بیشک تم لوگ ایسی ذات کو نہیںپکار رہے جو بہری یا غائب ہو، بلکہ تم سننے والی اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو، بیشک تم جس ذات کا ذکر کر رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبد اللہ! کیا میں تجھے ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں، جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِلَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6610، ومسلم: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19828»
وضاحت: فوائد: … انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔ خزانے سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مال کا خزانہ عمدہ اور نفیس چیز ہوتی ہے، اسی طرح یہ ذکر بھی عمدہ ہے اور اس کا اجر و ثواب جنت میں داخل کرنے والا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6610


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5419 in Urdu