الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّحْمِيدِ وَفَضْلِهِ
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5469
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ يَا فُلَانُ كَيْفَ أَنْتَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي فَقَالَ لَهُ إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَأَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ إِنْ شَكَرْتُ فَشَكَكْتَ فَسَكَتُّ عَنْكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو ملتے اور اس سے پوچھتے: اے فلاں! تم کیسے ہو؟وہ کہتا: خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جواب دیتے: اللہ تعالیٰ تجھے خیریت کے ساتھ ہی رکھے۔ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ملے اور اس سے پوچھا: کیسے ہو؟ اس نے کہا: اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش رہے، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلے جب بھی آپ مجھ سے سوال کرتے تو آپ مجھے یہ دعا دیتے کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیر کے ساتھ ہی رکھے، لیکن آج آپ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے جب میں تجھ سے سوال کرتا تھا تو تو کہتا تھا کہ خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور میں جواباً کہتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیریت سے ہی رکھے، لیکن آج تو نے کہا ہے کہ اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت سے ہوں، تو تو نے شک کا اظہار کیا، سو میں خاموش رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5469]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن اسماعيل، والصحيح انه مرسل، أخرجه البيھقي في الشعب: 4449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13571»
وضاحت: فوائد: … بندے سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی حمد بیان کرے، وہ خوشحال ہو یا تنگ دست، مسرور ہویا غم زدہ، کیونکہ حمد و شکر، خیر و بھلائی کا سبب بنتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن اسماعيل
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5469 in Urdu