الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَاب مَا جَاءَ فِي أَوْقَاتٍ يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 5621
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کو عطاء کروں، کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 1/ 347، والنسائي في الكبري: 10321، والبزار: 3153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16866»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات بیان کی گئی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کی شان کو لائق ہیں اور یہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ یہ کیسا وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر آ کر اپنے بندوں کو آواز دیتے رہیں، لیکن آگے سے لبیک کہنے والا کوئی نہ ہو، جتنا یہ وقت عظیم اور قیمتی تھا، اتنا ہی لوگوں نے غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیاہے، عصر حاضر میں تو بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ بھی تہجد جیسے شرف سے محروم ہو گئے ہیں، باقیوں کو تو اس کا شعور ہی نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5621 in Urdu