الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَدْعِيَةِ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 5629
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5629]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 673، والطبراني في الدعائ: 1796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7900»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے، لیکن صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبدیت اور تواضع کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5629 in Urdu