الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَهَمْزُهُ الْمَوْتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرِيَاءُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کے ہَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، ہَمْز سے مراد اس کا جنون ہے، نَفْث سے مراد اس کا شعر ہے اور نَفْخ سے مراد اس کا تکبر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5682]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5380، والبيھقي: 2/ 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3828»
وضاحت: فوائد: … نَفْث کے لفظی معانی تھوک کی معمولی مقدار کے ساتھ پھونک مارنے کے ہیں، گویا کہ اشعار بھی شیطان کے پھونک مارنے یعنی وسوسہ ڈالنے کا نتیجہ ہیں۔ مراد وہ اشعار ہیں، جو شریعت کے مطابق قابل مذمت ہوں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5682 in Urdu