🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب دم الكذب والحلف لترويج السلعة وذم الأسواق
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5787
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ فَقَالَ لَا أَدْرِي فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! زمین کا کون سا حصہ بد ترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یہ سوال کیا، لیکن انہوں نے کہا: مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا، سو وہ چلے گئے، پھر کچھ دیریا عرصہ ٹھہرے رہے، پھر جب آئے تو کہا: اے محمد! آپ نے بد ترین قطعۂ زمین کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، پھرمیں نے اپنے ربّ سے پوچھاہے، تو اس نے کہا ہے کہ روئے زمین میں سے بد ترین حصہ بازارہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5787]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه البزار: 1252، وابويعلي: 7403، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1546،والحاكم: 1/ 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16865»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … اللہ تعالی کے ہاں سب سے پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے بری جگہیں بازار ہیں۔ (صحیح مسلم)
مساجد کا معاملہ تو واضح ہے کہ وہ نماز، تلاوت، اللہ کے ذکر اور عبادت کا مرکز اور صالحین بلکہ فرشتوں کی پناہ گاہ ہیں۔ رہا مسئلہ بازاروں کا تو وہ اس قسم کے مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں: جھوٹ، دھوکہ، جھوٹی قسمیں، عصر حاضر میں مرد و زن کا بدترین اختلاط اور بے پردگی، اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کرنے والے امور، شیطانوں کی کثرت جو ان مفاسد پر آمادہ کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه البزار: 1252


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5787 in Urdu