الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب النهي عن بيوع الغرد
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5825
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فِحْلَةَ فَرَسِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو نر گھوڑے کی جفتی کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5825]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 3592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12505»
وضاحت: فوائد: … آخری د و احادیث سے معلوم ہوا کہ سانڈ کا مالک اس کی جفتی کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 3592
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5825 in Urdu