الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي الْعَرَایَا وَالنَّهْي عَنِ الْإِسْتِثْنَاءِ فِي البیع إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
حدیث نمبر: 5847
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ بِتَمْرٍ وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا قَالَ فَلَقِيَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَرَايَا قَالَ سُفْيَانُ الْعَرَايَا نَخْلٌ كَانَتْ تُوهَبُ لِلْمَسَاكِينِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَنْتَظِرُوا بِهَا فَيَبِيعُونَهَا بِمَا شَاءُوا مِنْ تَمْرٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ انتظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچ دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5847]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2183، 2184، ومسلم: 1534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22012»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2183
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5847 in Urdu