الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ نَهي الْمُشْتَرِي عَنْ بَيْعَ مَا اشْتَرَاهُ قَبْلَ قَبْضَةٍ¤ بَابُ الأمْرِ بِالْكَيْلِ وَالْوَزْنِ وَالنَّهْي عَنْ بَيْعِ الطَعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
حدیث نمبر: 5877
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ فَقَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایسی چیز کو فروخت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے، (اگر میں اس سے سودا کر کے بعد میں) بازار سے خرید کر اس کو پہنچا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تیرے پاس نہیں ہے، اس کا سودا نہ کر۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5877]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3503، والترمذي: 1232، والنسائي: 7/ 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15385»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۵۸۷۳) کے فوائد میں اس حدیث کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3503
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5877 in Urdu