الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِثْبَاتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ
مجلس کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 5922
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دوآدمی آپس میں لین دین کریں تو ان میں سے ہر ایک کو جدا ہونے تک سودا واپس کرنے کا اختیار ہے، یا پھر ایک دوسرے کو اختیار دے اور وہ اختیار قبول کر لے اور پھر اس پر بیع کر لیں تو سودا پکا ہو جائے گا اور اگر وہ بیع کرنے کے بعد اس حال میں جدا ہوئے کہ کوئی بھی تجارت کو ترک کرنے والا نہ ہو تو پھر بھی سودا ثابت ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5922]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6006»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میںیہ اضافہ ہے: امام نافع نے کہا: جب سیدنا ابن عمرd کسی سے کوئی چیز خریدتے اور وہ ان کو پسند ا ٓجاتی تو وہ فروخت کنندہ سے جدا ہو جاتے (تاکہ اس کا واپسی کا اختیار ختم ہو جائے)۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6006
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5922 in Urdu