الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْعِيرِ
بھائو مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5947
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ سَعِّرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَخْفِضُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ قَالَ آخَرُ سَعِّرْ فَقَالَ ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھاؤ تو مقرر کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف اللہ تعالی ہی ہے، جو بھاؤ کو چڑھا دیتا ہے اور کم کر دیتا ہے، میں تو یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملوں کہ میں نے کسی کا نقصان نہ کیا ہوا ہو۔ جب ایک دوسرے شخص نے بھی یہی بات کی کہ آپ نرخ کا تعین کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو پکارو (اور اس سے دعا کرو)۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5947]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3450، وابويعلي: 6512، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8839»
وضاحت: فوائد: … نرخ مقرر کرنے کی صورت یہ ہے کہ سلطان یا اس کا نائب یا کوئی حاکم منڈی میں اشیاء فروخت کرنے والوں کو احکام کے ذریعے پابند کر دے کہ وہ اتنے نرخ سے زائد اشیاء فروخت نہ کریں اور نرخ کے اتار چڑھاؤ، کمی بیشی کو مصلحتاً روک دیں۔ اس سے ایک تو تاجروں کو نقصان ہوتا ہے، دوسرا وہ اشیاء کو روک کر عوام کو ضروریات ِ زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے مالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کو سستے داموں فروخت کرے یا مہنگے داموں، کوئی دوسرا اس کو پابند نہیں کر سکتا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ایسے تاجروں کو لوگوں پر آسانی کرنے کی ترغیب دلائی جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۰۴۸)اور اس کے بعد والی احادیث میںیہ ترغیب دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3450
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5947 in Urdu