الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بابُ مَا جَاءَ فِي اخْتِلَافِ الْمُتَبَايَعَينِ
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 5950
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ سِلْعَةً فَقَالَ هَذَا أَخَذْتُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَالَ هَذَا بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا فَقَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مِثْلِ هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ثُمَّ يُخَيَّرَ الْمُبْتَاعَ إِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ
۔ عبدالملک بن عبید کہتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس موجودتھا، ان کے پاس دوآدمی آئے، انھوں نے آپس میں کچھ سامان کا سودا کیا تھا، لیکن خریدار کہتا تھا کہ اس نے اتنے میں سامان خریدا ہے، اور بیچنے والا کہتا تھا کہ اس نے تو اتنے میں فروخت کیا ہے، ابوعبیدہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اسی قسم کا مسئلہ لایا گیا تھا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسی طرح کا مسئلہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فروخت کرنے والے کوحکم دیا کہ وہ اپنے دعوی پر قسم اٹھائے، پھر خریدار کو اختیار دے دیا کہ اگر وہ چاہتا ہے تو اتنے میں لے لے اور اگر چاہتا ہے تو سرے سے سودا ہی ترک کر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5950]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4442»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4442
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5950 in Urdu