الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ وَهُوَ بَيْعُ الْوَرَقِ بِالذَّهَبِ نَسِينَةٌ يَعْنِي دينا
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
حدیث نمبر: 5975
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنْ مَا كَانَ بِنَقَدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَرُدُّوهُ
۔ ابو منہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا برا ء بن عازب رضی اللہ عنہما دونوں حصہ دار اور پارٹنر تھے، ایک دفعہ انھوں نے کچھ چاندی نقد اور کچھ ادھار پر خریدی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دونوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: جو سودا نقد ہوا ہے، اس کو بر قرار رکھو اور جو ادھا ہواہے ا س کو واپس کر دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2060، 2061، 3939، ومسلم: 1589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19522»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2060
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5975 in Urdu