الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5982
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ قَالَ يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5982]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2178، 2179، ومسلم: 1596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22086 و22138»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2178
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5982 in Urdu