الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5987
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرَّبْعِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5987]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11499»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2258
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5987 in Urdu