الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
بیع سلم
حدیث نمبر: 6004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمَنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ فَقَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6004]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة النجراني۔ أخرجه ابوداود: 3467، وابن ماجه: 2284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6316»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز بیع سلم کا پھلوں کے پکنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة النجراني۔ أخرجه ابوداود: 3467
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6004 in Urdu