🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور مدبر غلام اپنے ورثے میں چھوڑا، جبکہ وہ مقرو ض بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی میں فروخت کردیں، پس انہوں نے اس کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6037]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله ’’مات وترك دينا‘‘ وھذا اسناد ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ۔ أخرجه بنحوه البخاري:2230، ومسلم: 997، لكن دون اللفظة الضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14996»
وضاحت: فوائد: … ”مُدَبَّر“ اس غلام کو کہتے ہیں، جس کا آقا اپنی زندگی میںیہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔
اس روایت کی اصل شکل درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ابومذکور نامی انصاری آدمی نے اپنے غلام کو مدبَّر بنا دیا، جبکہ اِس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: ”اس کو کون آدمی خریدے گا، اس کو کون آدمی خریدے گا؟“ پس سیدنا نُعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں اُس کو خرید لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مذکور کو اس کی قیمت دی اور فرمایا: ”جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے، اگر زائد مال ہو تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور پھر بھی کوئی مال بچ جائے
تو اِدھر اُدھر خرچ کر دے۔“ (صحیح مسلم: ۹۹۷، مسند احمد: ۳/ ۳۰۵)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله ’’مات وترك دينا‘‘ وھذا اسناد ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6037 in Urdu