الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6040
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت آن پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6040]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11337»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے مطابق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے سفارش کی کہ وہ باقی قرض معاف کر دیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1556
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6040 in Urdu