الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب من استدان لكارثة أو حاجة ضرورية ناويا الوفاء ولم يجد ولى الله عنه
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6042
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6042]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25507»
الحكم على الحديث: حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2409
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6042 in Urdu