الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب من استدان لكارثة أو حاجة ضرورية ناويا الوفاء ولم يجد ولى الله عنه
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6045
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَدَانَتْ دَيْنًا فَقِيلَ لَهَا تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاؤُهُ قَالَتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْتَدِينُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالی یہ جانتا ہے کہ یہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواهده۔ أخرجه ابن ماجه: 4288، والنسائي: 7/ 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27353»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی ایسی ضرورت کے لیے قرض لیتا ہے، جس کے بغیر اس کا کوئی چارۂ کار نہ ہو اور پھر اس کی ادائیگی کا سچا عزم رکھتا ہو اور پہلی فرصت میں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرنے والا ہے، لیکن اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کر سکا تو حسن ظن یہی ہے کہ اللہ تعالی قیامت والے دن اس کامؤاخذہ نہیں کرے گا اور اگر قرض خواہ نے اپنی زندگی میں اس کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے گا۔
الحكم على الحديث: صحيح بشواهده۔ أخرجه ابن ماجه: 4288
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6045 in Urdu